کرونا وائرس ،احتیاط اور علاج

تحریر:ڈاکٹر عبدالرحمٰن شاہد، جرمنی

دشمن سامنے ہو تو اس کا مقابلہ کرنے کی سو تدابیر ہو سکتی ہیں لیکن اگر دشمن چھپا ہوا ہو اور اس کے بارے میں معلومات نہ ہوں تو خوف کی کیفیت طاری رہتی ہے۔
کچھ ایسا ہی حال آج کل انسانوں کا ہے۔ دنیا کے ہر کونے میں بچہ بچہ کرونا وائرس کے نام سے مانوس اور خوفزدہ ہے۔ یہ کرونا وائرس ہے کیا اور انسانی صحت پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتےہیں اس بات کا تفصیل سے احاطہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔


کورونا ایک خوردبینی وائرس کی فیملی سے تعلق رکھنے والا وائرس ہے جو انسانوں اور جانوروں کو متاثر کرتا ہے۔ کرونا وائرس انسانی جسم میں داخل ہو کر سانس کی وبائی بیماری کا سبب بنتا ہے جسے کو ویڈ 19کا نام دیا گیا ہے۔’’کو و ‘‘سے کورونا وائرس ، ’’ڈی‘‘ سے ڈزیز 2019بنتا ہے۔
کرونا وائرس انسانی جسم پر کس طرح حملہ کرتا ہے

کرونا وائرس چین کے شہر ووہان سے پھیلا جہاں پر ایک لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے، یہ وائرس متاثرہ شخص سے ایک صحت مند شخص میں دو میٹر سے 10 میٹر کی دوری سے لگ سکتا ہے۔
یہ وائرس متاثرہ شخص کے چھینکنے سے براہ راست سامنے موجود شخص کے منہ پر منتقل ہو سکتا ہے جہاں سے یہ آنکھ، ناک یا منہ کے ذریعے جسم کے اندر داخل ہوتا ہے۔


چھینک کے ذرات ہوا میں معلق ہوں تو سانس کے ذریعے کسی صحت مند شخص کے اندر پہنچ سکتا ہے ۔
متاثرہ شخص چھینک یا کھانسی کرتے وقت ہاتھ منہ پر رکھے اور وہ ہاتھ کسی سطح پر لگیں تو وہاں سے بھی لوگ متاثر ہو سکتےہیں


کورونا وائرس سے متاثر مریض کو پہلے روز تیز بخار ہو تا ہے۔ شدید قسم کی تھکن محسوس ہوتی ہے۔ خشک کھانسی آتی ہے
دوسرے روز سے سانس لینے میں دشواری کا سامنا رہتا ہے۔ ساتویں روز تک کچھ مریضوں میں سانس کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے جب کہ باقی مریضوں کو اسپتال میں داخل کرانے کی ضرورت پڑتی ہے۔
آٹھویں روز شدید سانس کی تکلیف کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے جس کے بعد مریض کو آئی سی یو میں داخل کرنا پڑتا ہے۔ بارہویں روز بخار ٹھیک ہو جاتا ہے جب کہ تیرہیوں روز سانس کا مسئلہ بھی ختم ہو جاتا ہے ۔ جن مریضوں میں سانس کا مسئلہ ٹھیک نہیں ہوتا اور بخار رہتا ہے اٹھارویں روز تک ان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ زندہ بچ جانے والے مریضوں کی بیماری 22 ویں روز تک مکمل طورپر ٹھیک ہو جاتی ہے ۔

احتیاطی تدابیر کیا ہیں؟

کرونا وائرس کی ابھی تک کوئی ویکسین تیار نہیں ہو سکی ۔ اس وائرس سے بچنے کا واحد حل احتیاط ہے۔
احتیاطی تدابیر میں عوام کو سب سے پہلے ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے بچنا ہو گا
عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ وائرس ہوا میں 8 گھنٹے تک معلق رہ سکتا ہے۔ اس لیے ماسک پہننا انتہائی ضروری ہے۔
باہر نکلتے وقت عینک کا بھی استعمال کریں تاکہ فضا میں موجود وائرس آنکھوں کے ذریعے جسم میں منتقل نہ ہو سکے،،،
ہاتھوں کو وقفے وقفے سے صابن سے دھوئیں ۔

صابن کونسا استعمال کیا جائے؟

یہاں یہ بات جاننا بہت ضروری ہے کہ جب سے کورونا وائرس دنیا بھر میں پھیلا ہے سینی ٹائزرز اور جراثیم کش صابن کی قیمتیں آسمان کو پہنچ چکی ہیں۔ سینی ٹائزر اورمہنگے صابن کی بجائے وائرس کو موثر طریقے سے ختم کرنے کے لیے کپڑے دھونے والا صابن انتہائی موثر ہے۔ صابن میں ایتھانول اورکاسٹک سوڈا جراثیم کش اور چکنائی کو ختم کرنے والے ہیں ۔

کرونا وائرس کا علاج کیا ہے؟

وبا کی یہ شکل زیادہ پرانی نہیں ہے اس لیے ابھی تک اس کی کوئی ویکسین تیار نہیں ہو سکی. جسم کی قوت مدافعت ہی کرونا وائرس سے نجات کا واحد ذریعہ ہے.اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ قوت مدافعت کو کیسے بڑھایا جا سکتا ہے. اس کے لیے ہمیں اپنی روزمرہ کی خوراک اور عادات میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے.

ریسرچ نے ثابت کیا ہے کہ وائرس سے جنگ کے لیے جسم کے دفاعی نظام کو وٹامن ڈی اور رات میں 8 گھنٹے کی نیند کی اشد ضرورت ہوتی ہے. وٹامن ڈی بیماری کی شدت کو کم کرتا ہے اور جلد صحت یابی میں مدد فراہم کر سکتا ہے. یورپ میں وٹامن ڈی کے حصول کے لیے عوام کو فارمیسی پر جا کر پیسے خرچ کرنا پڑتے ہیں تاہم پاکستان میں دھوپ جیسی نعمت سارا سال موجود ہوتی ہے جو وٹامن ڈی کے حصول کا اہم ذریعہ ہے. اس کے علاوہ وٹامن ڈی مچھلی، انڈے،بڑے گوشت کی کلیجی، چیز، دالوں اور مشروم میں بھی پایا جاتا ہے.

رات کے وقت کی نیند ایسے ہی ہے جیسے ہم گاڑی ٹھیک کرنے کے لیے مکینک کی ورکشاپ میں کھڑی کر دیں. ہارورڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق جسم رات کے وقت تمام ریپئرنگ کے کام کرتا ہے جس میں بیماری کی وجہ سے متاثر سیلز اور ٹشوز کی مرمت بھی شامل ہے.آخر میں بطور ڈاکٹر تمام قارئین سے ایک ہی گزارش کروں گا کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کا واحد حل سماجی فاصلہ اور ہاتھ ملانے سے گریز ہے،، وقفے وقفے سے صابن سے چاہے وہ کپڑے دھونے والا ہی کیوں نا ہو ہاتھ کم از کم بیس سیکنڈ تک دھوئیں تاکہ آپ بھی محفوظ رہیں اور اپنے پیاروں کو بھی محفوظ رکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

جو بائیڈن نے حلف اٹھالیا، 46 ویں امریکی صدر بن گئے

ہیوسٹن(محمد علی،ہیڈ اآف نارتھ امریکہ)جو بائیڈن نے امریکا کے 46 ویں صدر کے عہدے کا ...

%d bloggers like this: