کورونا وائرس:حقیقت کیا،افسانہ کیا؟

تحریر: نسرین بانو

مصنفہ

زندگی جو ایک ڈگر پر چل رہی تھی صبح اٹھنا دفتر،یونیورسٹی،اسکول جانا،روزمرہ کے کاموں میں مصروف رہنا،کبھی دوستوں کے ساتھ دیر رات تک باہر رہنا،فیملی کے ساتھ باہر گھومنا،آفس سے لیٹ گھر آنا،باہر کھانا کھانا ،یہی سب ہماری زندگی کا معمول بن گیا تھا۔ زندگی ان سب کاموں میں ڈھل گئی تھی اور ہم ان سب چیزوں کا عادی ہوگئے تھے۔ کوئی انسان یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ہمارے اس معمول کو ایسی بریک لگے گی کہ ہم اس معمول سے ہٹنے پر مجبور ہوگئے ۔ایک ایسی بیماری ایک ایسا وائرس جو کسی ایک انسان کو لگ جائے تو دوسرے انسان تک پہچنے میں دیر نہیں لگتی یہ بیماری شروغ ہوئی تھی چین، کے شہر وہان سے جہاں پہلا کیس 17نومبر 2019کو منظر عام پر آیا تھا اور وہان میں ہی اس وائرس کو کووڈ 19 کا نام دیا گیا ۔

وہان سے یہ وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہوا پورے 185ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ اب تک اس بیماری کے مکمل علاج کے لیے کوئی قابل اثر ویکسین دریافت نہیں ہوئی۔ پوری دنیا میں سپر پاور کے نام سے مشہور ملک، امریکا میں بھی روزانہ اس وبا کیوجہ سے ہزاروں لوگ جان کی بازی ہار رہے ہیں اور امریکا سب سے جدید ٹیکنالوجی کا حامل ملک ہونے کے باوجود اس وائرس کے خلاف ابھی تک کوئی دوائی ایجاد نہیں کر پایا۔ دنیا کے کئی ممالک وائرس کے خلاف ویکسین کی تیاری میں دن رات لگے ہوئے ہوئے ہیں لیکن کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پائے۔
ہزاروں ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ اس وائرس نے لوگوں کی معاشرتی زندگی پر بھی شدید اثرات چھوڑے ہیں۔ لوگوں نے گھروں سے باہر جانا چھوڑ دیا۔کچھ لوگون کو گھر سے ہاہر وقت گزارنا اچھا لگتا تھا لیکن اب وائرس کے خوف سے وہ گھروں تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔ ڈاکٹرز اور طبی ماہرین جی جان لگا کر کورونا کے مریضون کی خدمت میں مصروف ہیں جبکہ کئی ڈاکٹرز خدمت کے دوران جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ دوسری طرف دنیا کے کئی ملکوں میں اس وائرس کو کنٹرول کرنے کے لئے سائنسی ایجادات ہورہی ہیں جن سے کافی حد تک لوگون کو مدد مل رہی ہے۔
امریکہ اور چین کے تعلقات پہلے ہی ٹھیک نہیں تھے اوراب امریکہ نے چین کو اس وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار دیتا رہتا ہے جسے چین نے بے بنیاد الزام قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔دوسری طرف اس مہلک وائرس کو لے کر کئی سازشی تھیوریاں بھی سامنے آرہی ہے تاہم یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ اسکی اصل حقیقت کیاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

ڈیجٹل اکانومی سے پاکستان میں انقلاب آسکتا ہے،شہزاد سبحانی

ریاض(خرم خان، نمائندہ)گلوبل انفارمیشن سیکورٹی پاکستانی پروفیشنل اور پاکستان اوورسیز کمیونٹی گلوبل کی جانب سے ...

%d bloggers like this: