جرمنی نے کورونا وائرس پر کیسے قابو پایا؟

تحریر:ڈاکٹرعبدالرحمٰن شاہد

کورونا وائرس ہے کیا؟
کورونا وائرس خوردبینی وائرس ہے جو انسانوں اور جانوروں دونوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ وائرس سانس کے مسائل پیدا کرتا ہے ۔ کورونا وائرس انسانوں کو کس طرح متاثر کرتا ہے اس کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔
یہ وائرس سب سے پہلے چین کے شہر ووہان میں سامنے آیا جہاں اس سے تقریباً ایک لاکھ کے قریب افراد متاثر ہوئے۔
کورونا وائرس 2 سے 10 میٹر فاصلے سے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہو نے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ انسانی جسم کے اندر آنکھ، ناک اور منہ کے ذریعے داخل ہوتا ہے۔
کسی بھی متاثرہ شخص کی چھینک یا کھانسی سے وائرس فضا میں منتقل ہوتا ہے جہاں سے یہ سانس یا دوسرے شخص کے ہاتھ پر منتقل ہوتا ہے ۔
اگر متاثرہ شخص اپنے ہاتھ کو آنکھ، ناک یا منہ کو لگاتا ہے تو وائرس انسان کے اندر پہنچ جاتا ہے ۔

جرمنی کے اقدامات۔
کورونا وائرس سے متاثرہ دیگر یورپی ممالک کی نسبت جرمنی میں سب سے کم ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ لیکن ابھی خطرہ ٹلا نہیں۔ کورونا وائرس کے خلاف جرمنی کے کامیاب اقدامات کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔ کورونا وائرس پھیلنے کے بعد حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے دوران عوام نے مثبت رد عمل دکھایا اور حکومتی ہدایات پر سختی سے عمل درآمد کیا۔ سوشل ڈسٹنس کو اپنایا اور ماسک کے ساتھ ساتھ عینک کے استعمال کو بھی یقینی بنایا گیا۔ جرمن عوام کی ذمہ داری کا یہ عالم ہے کہ عوامی جگہوں اور کام کی جگہ پر اگر کوئی شخص ماسک کے بغیر موجود ہوتا تو دیگر افراد اسے ماسک پہننے پر مجبور کرتے ۔
جرمنی میں کورونا وائرس کے دوران اسپتالوں نے مریضوں کے بہتر علاج سے یہ ثابت کر دیا کہ ٹیکنالوجی اور ڈاکٹرز کی مہارت کسی بھی مشکل گھڑی میں مثبت نتائج لا سکتی ہے۔ جس وقت یہ آرٹیکل لکھا جا رہا ہے اس وقت تک ایک لاکھ 72 ہزار کورونا کے مریض سامنے آئے جن میں سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد صرف 7ہزار676 ہے۔ہلاکتوں کی یہ تعداد یورپ بھر میں کم ترین سطح پر ہے۔
ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر تعداد ان افراد کی ہے جو اسپین اور اٹلی کے اسپتالوں میں جگہ کم پڑنے کی وجہ سے ہنگامی طورپر جرمنی منتقل کیے گئے ۔ وباء کے پھیلاؤ کے دنوں میں جرمنی میں حکومت کی جانب سے ہنگامی طورپر 10 لاکھ مریضوں کے علاج کیلئے اسپتال تیار تھے۔ تاہم 30 فیصد اسپتال کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے استعمال ہوئے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ بہت سے اسپتالوں میں کورونا وارڈز خالی پڑے ہیں۔
جرمن حکومت کی جانب سے اب لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی ہے ۔ معیشت کو سہارا دینے کے لیے کاروبار کھل رہے ہیں ۔ اسکول بھی حفاظتی اقدامات کے تحت کھلنا شروع ہو گئے ہیں۔
کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کے روک تھام کے لیے جرمن حکومت کی جانب سے ملک بھر میں اینٹی باڈیز ٹیسٹ لینا شروع کر دیئے گئے ہیں تا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ کورونا وائرس کے خلاف کتنی آبادی میں مدافعت پیدا ہو چکی ہے۔
لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد بھی شہریوں کو باہر نکلتے وقت سماجی فاصلے کو مد نظر رکھنا ہو گا ، دستانے اور ماسک پہننا ہوں گے بصورت دیگر جرمانے یا سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ جرمنی کے عوام نے مشکل وقت میں انتہائی ذمہ داری کا ثبوت دیا اور اپنے ہمسائیہ ممالک اسپین اور اٹلی کی عوام کی نسبت زیادہ پختگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
بطور پاکستانی اوورسیز ڈاکٹر جرمنی میں کام کرتے ہوئے اپنے پاکستانی بھائیوں کو میرا پیغام ہے کہ صرف تین کام آپ کو کورونا وائرس سے بچا سکتے ہیں ۔ نمبر ایک گھر سے نکلتے وقت اپنا منہ ڈھانپیں، چاہے ماسک سے،، یا پٹکے سے ۔ بازار میں دوسرے افراد سے کم از کم ایک میٹر کا فاصلہ رکھیں ، ہاتھوں کو دھوئے بغیر آنکھ، ناک یا منہ کو نہ لگائیں۔ گھر واپسی پر ہاتھوں کو صابن سے اچھی طرح دھولیں تاکہ آپ محفوظ رہیں اور آپ کی وجہ سے آپ کے پیارے بھی محفوظ رہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

ڈیجٹل اکانومی سے پاکستان میں انقلاب آسکتا ہے،شہزاد سبحانی

ریاض(خرم خان، نمائندہ)گلوبل انفارمیشن سیکورٹی پاکستانی پروفیشنل اور پاکستان اوورسیز کمیونٹی گلوبل کی جانب سے ...

%d bloggers like this: