الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز اور حکومتی لا پرواہی

میاں عدنان ریاض

الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز میڈیکل سائنس کے فارغ التحصیل گریجو ایٹس ہیں جو ایم بی بی ایس کی طرح ایف سی اور انٹری ٹیسٹ پاس کرتے ہیں اور معروف میڈیکل کالجوں اور یورسٹیوں سے 4 یا 5 سال پر مشتمل ڈگری حاصل کرتے ہیں۔ الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز تقریباً 20 فیلڈز پر مشتمل ہیں۔ ہر سال 1500 یا 2000 طالب علم ان اداروں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس کورونا کی وبا ئی حالت میں ڈاکٹروں اور نرسوں اور پیدا میڈیکس کے ساتھ ساتھ میڈیکل ٹیکنالوجسٹ بھی فرنٹ لائنر ہیں۔
میڈیکل لیبارٹری ٹیکنالوجسٹ روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں ٹیسٹ کر رہے ہیں۔ میڈیکل ریڈیالوجی کے تکنیکی ماہرین کو رونا وائرس کے مریضوں کی لا تعداد چیسٹ ایکس رے کررہے ہیں۔ میڈیکل اینستھیزیا کے تکنیکی ماہرین وینٹی لیٹروں پر کرونا مریضوں کا علاج کر رہے ہیں۔ اس طرح میڈیکل ٹیکنالوجسٹوں کا ہر شعبہ اپنا کام انجام دے رہا ہے اور وہ فرنٹ لائنر ہیں۔ لیکن ہزاروں گریجو ایٹس بے روزگاری اور نوکری نہ ہونے کی وجہ سے بہت برے حالات میں نظر آرہے ہیں۔
ایک مستندڈگری حاصل کرنے اور مشق کرنے کے بعد پاکستان میں ان کو کوئی مقام نہیں دیا جا رہا ۔ نہ تو انہیں ملازمت ملتی ہے اور نہ ہی ان کو باقاعدہ بنانے کے لیے کوئی کونسل جیسا ادارہ ہے جس کی وجہ سے انہیں عطائی کہا جا رہا ہے ۔ ایم بی بی ایس کے پاس پی ایم ڈی سی کونسل ہے ، نرسز کیلئے نرسنگ کونسل ہے، فارماسسٹ کے لیے فارمیسی کونسل ۔ یہاں تک کہ حکیم کے لیے بھی طب کونسل موجود ہے لیکن الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کو بغیر کسی رہنمائی کے چھوڑ دیا گیا ہے ۔ ابھی بھی پاکستان میڈیکل ٹیکنالوجسٹ کے پاس اپنے کورس کے نظم و نسق ، اپنے پریکٹس کو منظم کرنے اور اپنے حقوق کی فراہمی کے لیے کونسل نہیں ہے۔ اس وجہ سے ہزاروں افراد طبی تکنیکی ماہرین بے روزگار ہیں۔ وہ اپنی ڈگریوں اور تقدیر پر ماتم کر رہے ہیں۔
2018 اور 2019 میں وفاقی کابینہ نے الائیڈ ہیلتھ کونسل کی تشکیل کے لیے ایک مسودہ پاس کیا لیکن ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ الائیڈ ہیلتھ کونسل ڈگری یافتہ الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کا بنیادی حق ہے لیکن پھر بھی اس سے محروم ہیں۔ ہماری وزیر اعظم پاکستان صدر پاکستان ،وزیر صحت اور منسٹری آف ہیلتھ سروسز کوارڈینیشن سے گزارش ہے کہ آئندہ ہونے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کونسل کا بل لایا جائے تاکہ ہزاروں ایم فل ، پی ایچ ڈی میڈیکل ٹیکنالوجسٹ کا مستقبل بچایا جا سکے اور وہ آزادی سے اندرون و بیرون ملک نوکریاں اور روزگار حاصل کر سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

ڈیجٹل اکانومی سے پاکستان میں انقلاب آسکتا ہے،شہزاد سبحانی

ریاض(خرم خان، نمائندہ)گلوبل انفارمیشن سیکورٹی پاکستانی پروفیشنل اور پاکستان اوورسیز کمیونٹی گلوبل کی جانب سے ...

%d bloggers like this: