لاک ڈاؤن،ریڈ زون پاکستان اور برطانیہ

تحریر : شکیل انجم راجپوت

پاکستان میں کرونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کو مدِ نظر رکھتے ہوئے برطانیہ نے پاکستان کو ریڈ لسٹ میں ڈال دیا جِس کا اطلاق 9 اپریل سے ہو گا ۔
9 اپریل کے بعد پاکستان سے برطانیہ آنے والے مسافروں کو گھر جانے سے پہلے 10 دن ہوٹل میں قرنطینہ کرنا ہو گا جِس کیلئے فی بندہ 1750£ ادا کرنا ہوں گے ۔
جب سے برطانیہ نے پاکستان کو ریڈ زون میں ڈالا ھے سوشل میڈیا پر برطانوی پاکستانیوں نے ایک کھپ ڈالی ہوئی ھے کہ مر گئے ‘ لُٹ گئے ‘ اُجڑ گئے ‘ برباد ہو گئے ۔
اب پاکستانی نثراد برطانوی پارلیمنٹرین اور سیاستدان کے ذریعے برطانوی پاکستانی حکومتِ برطانيہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان کو ریڈ لسٹ میں کیوں ڈالا ھے اور کن وجوہات کیوجہ سے ڈالا ہے ۔
قطع نظر برطانوی حکومت کا پاکستان کو ریڈ لسٹ میں ڈالنے کا فیصلہ درست ھے یا غلط تصویر کا ایک دوسرا رُخ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

کرونا کیوجہ سے گزشتہ برس مارچ سے لیکر اب تک پوری دُنیا میں غیر معمولی حالات ہیں ۔
کرونا کیوجہ سے لاکھوں افراد اپنی جان سے ہاتھ دُھو بیٹھے اور لاکھوں اس موذی مرض میں گرفتار ہیں ۔
ہم میں سے لاتعداد لوگ اپنے پیاروں کو اس سال اس بیماری کیوجہ سے کھو بیٹھے ۔
حکومت برطانیہ کیجانب سے اس وبائی بیماری کے آغاز کے موقع پر ہی کہا گیا تھا اور بار بار کہا گیا تھا کہ غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں اور مکمل احتیاط کریں اور تمام حفاظتی ہدایات پر عمل کریں تاکہ آپ کی جان بھی محفوظ رہے اور حکومت کو اس مرض سے نمٹنے میں آسانی ہو۔

حکومت نے سکول ‘ کالج ‘ یونیورسٹیز ‘ کاروبار ‘ ریسٹورنٹس ‘ پارک ‘ شادی ہال سمیت ہر چیز پر پابندی لگا دی تھی اور تمام عوام کو فرداً فرداً مکمل طور پر مالی امداد دی کاروباری لوگوں کو ہزاروں پاونڈز کی شکل میں مالی معاونت کی اور ایک مرتبہ نہیں کی ہر ماہ کے حساب سے دیے اور اسی وجہ سے کسی فرد اور کنبے کو مالی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔
دوسری طرف عوام نے برطانوی حکومت کیساتھ کیسے تعاون کیا اور بالخصوص میں یہاں پاکستانی برطانوی عوام کی بات کر رہا ہوں ۔
ہم لوگوں نے حکومتی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے چھُٹیاں ‘ پکنک اور شادیوں کیلئے پاکستان کا رُخ کر لیا ۔
پیسے تو حکومت دے ہی رہی تھی بچوں کو سکول کالج سے چھٹیاں مل گئی ہم لوگوں نے اس سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے پورے پورے خاندان سمیت پاکستان کا رُخ کر لیا ۔
ہمارے ایک جاننے والے شخص کا کہنا ہے اُسکے خاندان کے 73 لوگ پاکستان شادی کے لئے گئے ہوئے ہیں ۔
اوپر سے ستم ظریفی کرونا زدہ لوگوں نے بھی جعلی کرونا نیگیٹو سرٹیفکیٹ بنوا کر پاکستان کا سفر کیا جس کیوجہ سے پاکستان میں بھی کرونا کا بے تحاشا اضافہ ہوا جس کا ذکر وزیراعظم عمران خان نے بھی کیا ۔
برطانوی ائیرپورٹس پر گزشتہ برس سفر کرنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد پاکستانیوں کی تھی ۔
ائیرپورٹ حکام جب سوال کرتے تھے کہ آپ لوگ ان غیر معمولی حالات میں سفر کیوں کر رہے ہیں تو زیادہ تر لوگوں نے اپنے پہلے سے فوت شدگان کو ” دوبارہ ” مارا یا اپنے زندہ اور جیتے جی ماں باپ اور رشتہ داروں کو ” زندہ درگور ” کیا یہ تو ہمارے اخلاقی حالات ہیں ہر جگہ اور ہر حالات میں دونمبری ۔

اب اگر برطانوی حکومت نے تنگ آ کر اور پاکستان میں کرونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کیوجہ سے پاکستان کو ریڈ زون میں ڈال دیا ہے تو ہم لوگوں نے سینہ کوبی کر کر کے آسمان سر پر اُٹھا لیا ھے کیونکہ اب فی خاندان کو لاکھوں روپے ادا کرنا پڑینگے ہوٹل قرنطینہ کیلئے ۔
میں تو کہتا ہوں برطانوی حکومت بے بلکل ٹھیک کیا ہے 1750£ پاونڈ کیساتھ فی بندہ 5000£ جرمانہ بھی کرنا چاہئے اور جو لوگ جتنا عرصہ پاکستان رہے اُسی حساب سے اُن کو دی گئی مالی امداد بھی واپس لینا چاہیے .
یہی ہمارا علاج ھے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

دبئی مینا بازار, dubai mena bazar

دبئی:مینا بازار میں ابوماجد فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل کی تیسری برانچ کا افتتاح

دبئی(نمائندہ خصوصی)دبئی میں پاکستانی کاروباری حضرات قدم جمانے لگے۔مینا بازار میں سبزی اور فروٹ مارکیٹ ...

%d bloggers like this: