ہم رمضان المبارک کیسے گزاریں؟

تحریر:محمد قاسم وقار سیالوی


حدیث نبوی ہے ”عملوں کا دارومدار نیتوں پر ہے“(بخاری)۔ بغیر تیاری کمرۂ امتحان میں بیٹھنے والا طالب علم اچھے نمبر لینے تو درکنار امتحان پاس بھی نہیں کرپاتا اسی طرح بغیر ذہنی تیاری کے رمضان المبارک جیسے بابرکت ماہ بھی ہم کماحقہ‘ استفادہ نہیں کر پاتے۔ اس لیے آئیے چند ایک اہم اقدامات کی طرف توجہ مبذول کرکے اپنا شیڈول مرتب کرتے ہیں۔


استقبالِ ماہِ رمضان
ماہِ شعبان المعظم کا آخری ہفتہ گھر میں جوش و خروش کے ساتھ استقبالِ ماہِ صیام کی تیاریاں کریں اور بچوں کو خصوصی طور پر رمضان المبارک کی اہمیت، روزہ کی فضیلت، نماز کی تربیت، صبر و شکر کی تلقین کریں۔
گھر میں پاکیزہ ماحول
اپنے گھروں کی صفائی ستھرائی کریں، اپنا پسندیدہ عطر، ائیر فریشنریا بخور دان کا اہتمام کریں۔کونے کھدروں میں لگے جالے لازمی صاف کریں، قرآن مجید کے غلاف،جائے نماز دھوکر صاف کریں اور مختص کی گئی جگہ پر رکھیں۔ تسبیح (لکڑی کی) کو پاس رکھنے کی عادت بنائیں۔ ممکن ہو تو گھر کا ایک کمرہ عبادت کیلئے مختص کر لیں، مرد حضرات قریبی مسجد میں باجماعت جبکہ خواتین اس مخصوص کمرہ یا جگہ میں نماز ادا کریں۔


تلاوت کی عادت
رمضان المبارک میں گھر کا ہر فرد(جس نے ناظرہ قرآن پاک پڑھا ہوا ہو)ایک قرآن پاک مکمل تلاوت ضرور کرے۔ روزانہ کا ایک پارہ جو ہر نماز کے بعد چند رکوع تلاوت کرنے سے مکمل قرآن پاک بآسانی پڑھا جا سکتا ہے۔ جو ناظرہ نہیں پڑھے ہوئے ان کیلئے سنہری موقع ہے کہ وہ قرآن پاک ناظرہ پڑھنا سیکھ لیں۔ جو پڑھے ہوئے ہیں وہ ترجمہ کے ساتھ پڑھنے کی کوشش کریں۔


رات کو جلدی سونا
بلا وجہ گھومتے رہنا، ٹی وی کے غیرضروری پروگرامز میں مشغول رہنا وقت کا ضیاع ہے۔ نماز تراویح باجماعت پڑھیں، 500مرتبہ درود پاک پڑھ کر سوئیں۔ اگر بالفرض جاگنا ہی مقصود ہے تو دینی واخلاقی کتب کا مطالعہ بے حد مفید ہے۔
باوضو رہیں
نمازوں کی پابندی کیلئے ہمہ وقت باوضو رہنے کی عادت اپنائیں۔ جب بھی وضو ٹوٹے فورا تازہ وضو کر لیں نماز کا وقت ہو یا نہ۔ خواتین بھی کھانا بناتے وقت باوضو رہیں۔
دستر خوان پر کھانا کھائیں
سحر و افطار کے وقت ممکن ہو تو فرشی دستر خوان لگائیں، کھانے سے پہلے ہاتھ دھوئیں، گھر کا سربراہ پہلے کھانا شروع کرے پھر باقی افراد۔ کھانے سے پہلے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم گھر کا سربراہ اونچی آواز میں پڑھے تاکہ سب کو یاد آجائے۔ کھانا کھانے سے پہلے کی دعا بسم اللہ الذی لا یضر مع شیء فی الارض ولا فی السماء واھوالسمیع العلیم۔ پڑھیں۔ کھانا کھانے کے بعد ”الحمد للہ“ کہیں۔ جس نعمت کا شکریہ ادا کریں گے اللہ اس نعمت میں اضافہ فرمائے گا۔
کھانا ضائع نہ کریں
گھر کے سربراہ کوشش کرتے ہیں کہ افطار کا دستر خوان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے بھر پور ہو،مگر اپنی ضرورت کے مطابق اشیاء رکھیں۔ اضافی کھانا ہمسائیوں کو بھیج دیں یا کسی مستحق غریب کو پہنچا دیں۔جن کو اللہ تعالیٰ نے رزق کی فراوانی سے نوازا ہے وہ دوسروں کیلئے سحر و افطار کے دسترخوان کا اہتمام کریں۔
مسنون دعائیں یاد کریں
رمضان المبار ک کے بابرکت ایام مسنون دعائیں یاد کرنے کا سنہری موقع ہوتے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر کوئی ایک دعا یاد کریں۔
شب بیداری
رمضان المبارک کے دن تو بابرکت ہیں ہی اس کی راتیں بھی رحمتوں اور برکتوں سے خالی نہیں ہوتیں۔ شب بیداری کیلئے مساجد میں اہتمام ہوتا ہے وہاں شرکت کریں۔ گھر پرشب بیداری میں عبادات کے علاوہ اسلامی تاریخ،اہل بیت، صحابہ کرام اور بزرگانِ دین کے احوالِ زندگی کا تذکرہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ لیلۃ القدر ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے (القرآن)۔ اس لیے رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں بالخصوص عبادات کا اہتمام کیا جائے۔
سُنت اعتکاف
شروع رمضان المبارک سے ہی آخری عشرہ کے اعتکاف کی نیت کریں اور اپنے کاموں کو اسی حساب سے نپٹانا شروع کریں۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے مسجد میں اعتکاف کریں۔ خواتین کیلئے گھر میں نماز کیلئے مخصوص کردہ جگہ پر ہی اعتکاف کا اہتمام کریں۔
جب روزہ نہیں تو افطار پارٹی کیسی؟
بسا اوقات دیکھا گیا میزبانوں نے اس لیے روزہ نہیں رکھا ہوتا کہ افطاری کے انتظامات کرنے ہیں اور مہمانوں نے اس لیے نہیں رکھا ہوتا کہ دور جانا ہے،یاد رہے جس نے رمضان المبارک کا ایک روزہ چھوڑ دیا اس کے بعد اگرچہ وہ ساری زندگی بھی روزے رکھتا رہے اس کے جتنا ثواب نہیں حاصل کر سکتا۔ ممکن ہو تو خشک راشن مستحق گھروں کو قبل از رمضان المبارک ہی فراہم کر دیں۔
وقت افطار کی قدر کریں
افطار کے وقت گھڑی پر نگاہیں مرکوز رکھنے کی بجائے تسبیح و تہلیل، درود شریف وردِ زبان رکھیں، اجتماعی دعا کا اہتمام کریں۔ جس مسجد کی اذان کی آواز سے آپ سارا سال مغرب کی نماز ادا کرتے رہتے ہیں رمضان المبارک میں بھی اسی مسجد کی اذان پر اعتبار کریں۔ افطار کے وقت ہزاروں ایسے افراد کی بخشش کر دی جاتی ہے جن پر گناہوں کی وجہ سے جہنم واجب ہو چکا ہوتا ہے۔
رزق حلال پر توجہ دیں
اگر آپ بزنس مین ہیں تو دوسروں کیلئے آسانیاں پیدا کریں، ذخیرہ اندوزی، خود ساختہ مہنگائی، دوسروں کو برا بھلا کہہ کے خود ریٹ بڑھانے کی عادت ترک کریں۔ جس گھر میں حلال کمائی آتی ہے اس گھر کے بچے ماں باپ کا حیاء کرتے ہیں۔
چاند رات۔۔قدر کی رات
رمضان المبارک شروع ہونے سے قبل بھی عید کی عمومی شاپنگ کی جا سکتی ہے۔ ہم سارا کام رمضان المبارک کے آخری ایام تک اٹھا رکھتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بازاروں میں شدید رش ہونا عام بات ہے۔ اعتکاف کرنے والے بازاروں میں گھوم پھر کر اپنے دس دن کی روحانیت بدنگاہی کی نظر نہ کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

دبئی مینا بازار, dubai mena bazar

دبئی:مینا بازار میں ابوماجد فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل کی تیسری برانچ کا افتتاح

دبئی(نمائندہ خصوصی)دبئی میں پاکستانی کاروباری حضرات قدم جمانے لگے۔مینا بازار میں سبزی اور فروٹ مارکیٹ ...

%d bloggers like this: