الیکٹرک ٹرین انجن چوروں کے نشانے پر

تحریر :اویس حمید


ایک وقت تھا جب لاہور ریلوے سٹیشن سے الیکٹرک انجنز کا ٹرینیں لے کر نکلنا معمول تھا۔ ریلویز کے اندر بیٹھے کرپٹ مافیا اور ادارہ جاتی بدانتظامی نے پاکستان ریلویز کو ایسا ریورس گیئر لگایا کہ آج تک اس کا سنبھلنا محال ہے۔ طویل پٹڑیوں اور لاتعداد تاریخی روٹس کے ساتھ ساتھ الیکٹرک انجن بھی صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔


سن 1966 تک کم و بیش اڑھائی سو کلو میٹر طویل لاہور، خانیوال ٹرین سیکشن پر الیکٹرک انجنوں کے لئے لائنیں بچھا کر برٹش ریل ٹریکشن کے تحت 29 الیکٹرک انجن خرید لئے گئے۔ ہر انجن کی صلاحیت 3 ہزار ہارس پاور تھی۔ اس وقت ان پر 14 کروڑ 20 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ سن 1971 میں ان انجنوں نے لاہور اور خانیوال کے درمیان دوڑنا شروع کر دیا۔

منصوبے کے کامیابی سے آغاز کے بعد لاہور سے راولپنڈی اور پشاور تک الیکٹرک لائن بچھانے کا فیصلہ ہوا لیکن بعض تکنیکی مسائل کے باعث اس پر عمل نہ ہو سکا۔ اس کے بعد الیکٹرک لائن بولان پاس سے کوئٹہ تک بچھانے کا منصوبہ بنا جو بجلی کی قلت کے باعث پایہ تکمیل تک نہ پہنچ پایا۔

سن 2007 میں لاہور، خانیوال الیکٹرک انجن آپریشن ختم کر دیا گیا۔
سن 2009 میں لاہور تا خانیوال سیکشن پر صرف مال بردار ٹرینوں کے لئے الیکٹرک آپریشن شروع کیا گیا۔ انہیں کامیابی سے چلانے کے لئے 84 نئے ملازمین بھی بھرتی کئے گئے۔

بدقسمتی سے ٹریک کے مختلف مقامات پر تانبہ اور تاریں چوری ہونے کے اتنے زیادہ واقعات ہوئے کہ ریلویز کو اگلے سال ہی سن 2010 میں الیکٹرک انجن آپریشنز معطل کرنا پڑے اور سن 2011 میں اسے مستقل بند کر دیا گیا۔ تانبے کی یہ تاریں خاص طور پر الیکٹرک انجنوں کے لئے بنائی جاتی ہیں اور سن 2010 میں ان کی قیمت 900 روپے فی کلو سے زائد تھی۔

پورے سیکشن پر نصب کھمبوں اور تاروں کی مالیت 30 ارب روپے تھی۔ بندش کے بعد 16 الیکٹرک انجن شیڈز میں کھڑے کر دئیے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ریلویز کے اپنے ملازمین نے ان انجنوں کے 75 فیصد کنڈکٹرز چوری کر کے فروخت کر دئیے جس کے بعد باقی کے 25 فیصد کنڈکٹرز ریلویز کو نیلام کرنا پڑے۔


سن 2010 میں روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ڈیزل انجن مافیا نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت الیکٹرک ٹرین آپریشن بند کروایا۔ الیکٹرک انجن میں 2 ہزار پرزے ہوتے ہیں جنہیں شاذوناذر ہی مرمت کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کے برعکس ڈیزل انجن میں پرزوں کی تعداد 35 ہزار کے قریب ہوتی ہے اور انہیں اکثر مرمت کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح ان کی مرمت کے نام پر کرپشن کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔

واقفان حال کا کہنا ہے کہ تانبے کی قیمتی تاریں بھی اسی مافیا نے چوری کروائیں کیونکہ ایک عام چور 25 ہزار وولٹس کرنٹ والی تاروں کو ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔ 29 الیکٹرک انجنوں کو کباڑ میں ڈال کر چوریاں بھی اسی مافیا نے کروائیں اور انہیں اونے پونے داموں فروخت بھی کر دیا۔ محکمہ ریلوے میں موجود اس مافیا کی طاقت کا اندازہ لگائیے کہ سابق وزیر مملکت اسحاق خاکوانی نے تمام ادارہ جاتی شرائط پوری کر کے 75 ڈیزل اور 25 الیکٹرک انجن خریدنے کا آرڈر دیا۔ 75 ڈیزل انجن تو وقت پر پاکستان پہنچ گئے لیکن 25 الیکٹرک انجن کبھی نہ آ سکے۔


دوسری جانب دنیا تیزی سے مہنگے اور قدیم ڈیزل انجنوں سے جان چھڑوا کر الیکٹرک انجنوں پر منتقل ہو رہی ہے۔ ہمارا ہمسایہ ملک بھارت نہ صرف ٹرینوں کو الیکٹرک انجنوں پر منتقل کر رہا ہے بلکہ فرانس کی مدد سے ملک کے اندر الیکٹرک انجن تیار بھی خود کرتا ہے۔ اس مقصد کے لیے بھارتی ریاست بہار کے شہر مادھے پور میں فیکٹری لگائی گئی ہے۔ اسی فیکٹری کی بدولت سن 2019 میں بھارتی ٹرین سسٹم میں الیکٹرک انجنوں کی تعداد (6,059) ڈیزل انجنوں (6,049) سے آگے نکل گئی۔

گزشتہ سال بھارت نے 12 ہزار ہارس پاور کی قوت والا الیکٹرک انجن اپنے سسٹم میں شامل کیا ہے۔ بھارت نے سن 2022 تک اپنے تمام ٹرین انجن الیکٹرک پاور پرمنتقل کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

دبئی مینا بازار, dubai mena bazar

دبئی:مینا بازار میں ابوماجد فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل کی تیسری برانچ کا افتتاح

دبئی(نمائندہ خصوصی)دبئی میں پاکستانی کاروباری حضرات قدم جمانے لگے۔مینا بازار میں سبزی اور فروٹ مارکیٹ ...

%d bloggers like this: