قصور پولیس کے مدرسہ میں خواتین پر تشدد کی مذمت کرتے ہیں، چیف اکرام الدین

ایسے بے ضمیر پولیس افسران کو سرعام سزا دی جائے۔سربراہ جزبہ اتحاد یونین آف جرنلسٹ یورپین آرگنائزیشن

برلن(انٹرنیشنل ڈسک)بین الاقوامی گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے چیف ایگزیکٹو و جزبہ اتحاد یونین آف جرنلسٹ یورپین آرگنائزیشن کے سربراہ اکرام الدین نے کہا قصور پولیس کی طرف سے مدرسہ کے مہتم اور دیگر مدرسہ کے اساتذہ خواتین پر تشدد کی پرزور مذمت کرتے ہیں

انہوں نے کہا کہ حکومت وقت ایسے بے ضمیر اور بے حیا پولیس افسران کو سرعام پھانسی پر لٹکا دیا جائے عوام کو ایسے بے ضمیر اور بے حیا پولیس نہیں چاہئے پنجاب پولیس نے ہمیشہ خواتین کی بے حرمتی کی ہے اور کر رہے ہیں جو خواتین کی توہین ہے اسلامی ریاست کے دعوے دار اور حکومتی قائدین خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے جو ایک اسلامی ملک کے عوام کیلئے باعث شرم ہے

حکومت اور ملکی عوام پولیس کے ایسے حرکتوں پر خاموش کیوں ہے اج جو حوا کی بیٹی کی جو بے حرمتی ہوئی ہے قابل برداشت نہیں وزیر اعظم عمران خان نے ہمیشہ ریاست مدینہ کی بات کی ہے میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کیا اپ کے گھر میں یا اسمبلیوں میں جو بیٹھے ہے ان سیاسی قائدین کی ماں، بیٹی، بہن نہیں ہے پولیس افسران کے ایسی حرکتوں کا نوٹس کیوں نہیں لیتے

پاکستانی سیاسی قائدین نے صرف ریاست مدینہ کا نام سنا ہے لیکن پاکستانی ریاست مدینہ میں ابھی تک کسی مظلوم، بہن، بیٹی اور دیگر کو انصاف نہیں ملا اور نہ کبھی انصاف ملا ہے ہے کیونکہ پاکستان واحد اسلامی ملک ہے جن میں روز مرہ کے حساب سے خواتین، پر بے گناہ تشدد ہو رہا ہے بچے اور بچیوں کے ساتھ جنسی درندگی ہو رہی ہے لیکن ابھی تک کسی سیاسی جماعت نے ایسی حرکتوں کیخلاف روڈ بلاک نہیں کیا جو قابل افسوس ہے پاکستان تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ ن، اور پاکستان پیپلزپارٹی تو چھوڑ دیں کیونکہ وہ اسلام اور اسلامی تعلیمات سے ناواقف ہے میں جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق، اور جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے پوچھنا چاہتا ہوں کیا اپ دونوں دین اسلام کے احکامات سے ناواقف ہے کیا اپ دونوں قائدین نے کبھی اسمبلی میں خواتین پر تشدد، بچے اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کیخلاف قرارداد جمع کی ہے کیا اپ دونوں سیاسی قائدین نے ایسے واقعات پر جلسہ عام، یا روڈ بلاک کیا ہے؟

بین الاقوامی گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے چیف ایگزیکٹو اکرام الدین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیر داخلہ شیخ رشید، وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار، اور آئی جی پنجاب پولیس سے پرزور مطالبہ ہے کہ قصور پولیس کی طرف سے جو مدرسہ کی مہتم اور دیگر خواتین اساتزہ پر جو تشدد ہوا ہے انکی جلد از جلد نوٹس لیں اور جن پولیس نے دینی مدرسہ کی خاتون مہتم پر تشدد کیا ہے ان پولیس افسر کو سرعام پھانسی پر لٹکا دیا جائے

حکومت اور سپریم کورٹ آف پاکستان نے ابھی تک ایسے مجرمان کیخلاف کوئی قانون کاروائی نہیں کی نہ ابھی تک کوئی مظلوم کو انصاف ملا ہے پاکستان میں روزمرہ کے حساب سے ایسے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے جو قابل افسوس ہے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان سے ایک صحافی ہونے کے ناطے سوال کرتا ہوں تم کو اللہ نے شاید بیٹی نہیں دی پاکستان کے تمام سیاستدانون کی بیٹیوں سے یہ افضل بیٹی ہے ایک مدرسہ کی مہتم ہے بچوں کو دینی تعلیم دیتی ہے یہ بھی قوم کی بیٹی ہے چور لٹیرے سیاستدانوں کی بیٹی ہوتی تو ایوانوں کی اینٹ سے اینٹ بج گئی ہوتی.

تین سالوں میں آپ سے ایک محکمہ پولیس کا جابرانہ رویہ درست نہ ہو سکا وزیر اعظم عمران خان سے گزارش کرتا ہوں کہ خدا کے واسطے پولیس وردی میں چھپے کالی بھیڑوں کو الٹا لٹکا دو جو اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہیں یہ ہمارے محافظ ہو ہی نہیں سکتے جو درندگی دیکھاتے ہیں پولیس عوام کی تحفظ کیلئے ہے یا خواتین کی بے عزتی کیلئے ہے اخر کیوں ایسا ہو رہا ہے اور حکومت ان لوگوں کو کیوں سزا نہیں دیتی

بین الاقوامی گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے چیف ایگزیکٹو اکرام الدین نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت نے گزشتہ روز کہا کہ 6 اپریل 2021 کو کریمنل کیسز میں ملوث 100 سے زائد ایس ایچ اوز کو معطل کر دیا جائے گا ایس ایچ اوز کی معطل کرنے سے کچھ جرائم اور دیگر واردت میں کمی نہیں ہو سکتی جرائم، منشییات اور دیگر واردت میں ملوث کانسٹیبلان سے لیکر اعلی عہدوں پر فائز پولیس افسران کو نوکریوں سے فارغ کر دیا جائے اور انکو قانونی سزا دی جائے تا کہ کل ایسے ظلم،و تشدد، کسی اور بہن بیٹی کے ساتھ نہ ہو صرف کریمنل کیسز میں ملوث پولیس افسران کو معطل کرنے سے محکمہ پولیس ٹیھک نہیں ہو سکتی ایسے واقعات میں ملوث پولیس افسران کو عمری سزا دینا از حد ضروری ہے تا کہ پولیس میں جو کالی بیھڑیں ہے وہ ختم ہو سکے اور عوام کو انکے بنیادی حقوق اور تحفظ مل سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

دبئی مینا بازار, dubai mena bazar

دبئی:مینا بازار میں ابوماجد فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل کی تیسری برانچ کا افتتاح

دبئی(نمائندہ خصوصی)دبئی میں پاکستانی کاروباری حضرات قدم جمانے لگے۔مینا بازار میں سبزی اور فروٹ مارکیٹ ...

%d bloggers like this: