ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی اور دیگر رہنماؤں کے خلاف لاہور کے علاوہ کراچی میں بھی دہشتگردی، قتل کے مقدمے درج

 لاہور اور کراچی کے مختلف تھانوں میں درج مقدمات قتل، اقدام قتل کی دفعات کے علاوہ امنِ عامہ کے آرڈیننس اور انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج کیے گئے ہیں

مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے کارکنوں کی جانب سے ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والے پرتشدد احتجاج اور مظاہروں میں کم از کم دو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد لاہور اور کراچی میں جماعت کے سربراہ سعد حسین رضوی اور دیگر رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف متعدد مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ لاہور اور کراچی کے مختلف تھانوں میں درج مقدمات قتل، اقدام قتل کی دفعات کے علاوہ امنِ عامہ کے آرڈیننس اور انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج کیے گئے ہیں۔

پولیس کی مدعیت میں ایک مقدمہ لاہور کے تھانہ شاہدرہ ٹاؤن میں درج کیا گیا ہے اور اس میں سعد رضوی کے علاوہ قاضی محمود احمد قادری، پیر سید ظہیر الحسن شاہ، مہر محمد قاسم، محمد اعجاز رسول، پیر سید عنایت علی شاہ، مولانا غلام عباس فیضی، مولانا غلام غوث بغدادی سمیت دیگر کو نامزد کیا گیا ہے۔

ان رہنماؤں پر یہ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات برائے قتل، اغوا اور دیگر سمیت انسدادِ دہشت گردی ایکٹ اور پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے تحت درج کیا گیا ہے۔مقدمے میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ افراد سمیت دیگر نے سوشل میڈیا اور مسجدوں سے اعلانات کے ذریعے عوام کو پرتشدد احتجاج اور پورے پاکستان کو جام کرنے پر اکسایا۔اس کے علاوہ کراچی کے مشرقی ضلع کے چار مختلف پولیس سٹیشنوں میں 30 افراد کے خلاف پانچ مختلف ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ ان میں دو ایف آئی آر میں انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کی دفعات بھی شامل ہیں۔

علاوہ ازیں مقدمات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سعد رضوی کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے والے افراد نے پولیس پارٹی پر جان سے مار دینے کی نیت سے پتھراؤ اور فائرنگ کی۔

لاہور میں درج ہونے والی ایف آئی آر کے مطابق کئی پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا گیا ہے جبکہ اس دوران کانسٹیبل محمد افضل نامی پولیس اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔محمد افضل کے علاوہ ایک اور پولیس اہلکار کے ہلاک ہونے کی اطلاعات بھی ہیں جس کے بعد ان مظاہروں میں کم از کم دو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

یاد رہے کہ پیر کو لاہور پولیس کی جانب سے مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی کو حراست میں لیے جانے کے بعد سے ملک کے مختلف شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث متعدد علاقوں میں نظام زندگی متاثر ہوا ہے۔

دوسری جانب حکام نے مظاہروں والے علاقوں میں انٹرنیٹ سروسز بند کرنے کا حکم دیا ہے تاہم موبائل سروس بغیر تعطل جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

دبئی مینا بازار, dubai mena bazar

دبئی:مینا بازار میں ابوماجد فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل کی تیسری برانچ کا افتتاح

دبئی(نمائندہ خصوصی)دبئی میں پاکستانی کاروباری حضرات قدم جمانے لگے۔مینا بازار میں سبزی اور فروٹ مارکیٹ ...

%d bloggers like this: