جرمنی کی معروف علمی و ادبی شخصیت سید انور ظہیر رہبر علیل

رپورٹ : مطیع اللہ

جرمنی کے دارالحکومت برلن میں مقیم معروف افسانہ نگار اور شاعر انور ظہیر رہبر گھر میں اچانک ہونے والے حادثے کے نتیجے میں زخمی ہوکر ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اُن کی گردن کو جوڑنے والی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی اور وہ یکے بعد دیگرے دو بڑے پیچیدہ آپریشن سے گزرے۔ لیکن ڈاکٹری رپورٹ کے مطابق اُن کی ایک اہم نیورو سرجری ہونا ضروری ہوگئی تھی جس کے لیے وہ دوبارہ اکیس اپریل کو ہسپتال میں داخل ہوئے ۔ اُن کا پندرہ بیس دنوں میں ہونے والا یہ تیسرا بڑا آپریشن بھی کامیاب رہا ۔

ابتداً آپریشن کے بعد کچھ مسائل ہوگئے تھے جس کی وجہ سے وہ انتہائی نگہداشت کے شعبے میں رہے لیکن اب برلن کے یونیورسٹی ہاسپٹل شیریٹے بینجمن فرینکلن کے نیورولوجی کے وارڈ میں زیر علاج ہیں ۔ اُن کی طبیعت گذشتہ دنوں کے مقابلے میں بہتر ہے۔
سید انور ظہیر رہبر اردو زبان و ادب کے حوالے سے جرمنی سمیت دنیا بھر میں ایک معتبر پہچان رکھتے ہیں۔ اُن کا شمار برلن میں پہلے اردو مشاعرے کے انعقاد کے حوالے سے اور پہلی اردو ادبی تنظیم “بزم ادب برلن کے بانی ہونے کے حوالے سے کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔

آپ اردو انجمن برلن کے روح رواں اور اس تنظیم کے نائب صدر کے عہدے پر تعینات ہیں۔ اُن کی زیر نگرانی اور انتھک محنت سےاردو زبان کا جرمنی میں فروغ جاری ہے۔ سید انور ظہیر رہبر جرمنی کے محکمہ خارجہ میں بیس سال سے اردو کی تدریس سے وابستہ ہیں ۔ برلن میں پہلا ادبی جریدہ “ نئی کاوش” ان ہی زیر ادارت جاری ہوا اور گذشتہ برس انہوں نے برلن میں پہلے اردو ادبی ریڈیو کی نشریات کا باقائدہ آغاز کیا۔

سید انور ظہیر رہبر نے گذشتہ دنوں جرمنی کے افسانہ نگاروں کے تعارف اور فن افسانہ پر مبنی ایک مجموعہ “ رنگِ برگ” بھی تشکیل دیا ہے جو اس وقت طباعت کے آخری مراحل میں ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران عینی شاہدین اور تجربہ رکھنے والوں کی ایک یادداشت “ وقت کے گواہ “ کے نام سے بھی تحریر کی ہے جو بہت جلد کتابی صورت اپنے قارئین کے ہاتھوں میں ہوگی۔ سید انور ظہیر رہبر کے ایک شعری مجموعہ “ تجھے دیکھتا رہوں” کو دو ہزار تین میں ہندوستان میں اردو اکیڈمی نے بہترین کتاب کے حوالے سے نامزد کیا تھا جبکہ اُن کے افسانوں کے مجموعے “ عکس آواز “ پر ہندوستان ہی کے شہر ممبئی سے ایک تاثراتی کتاب “ لفظ بولیں گے مری تحریر کے “ شائع کی گئی تھی ۔

علاوہ ازیں پاکستان میں لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے سید انور ظہیر رہبر پر ایک تحقیقی مقالہ بھی رقم کیا ہے جو گذشتہ دنوں شائع ہوکر منظر عام پر آیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

دبئی مینا بازار, dubai mena bazar

دبئی:مینا بازار میں ابوماجد فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل کی تیسری برانچ کا افتتاح

دبئی(نمائندہ خصوصی)دبئی میں پاکستانی کاروباری حضرات قدم جمانے لگے۔مینا بازار میں سبزی اور فروٹ مارکیٹ ...

%d bloggers like this: