پاکستانی ڈرامہ “دوبارہ”شریک حیات کا انتخاب اور معاشرتی روش موضوع بحث

تحریر:عظمیٰ جہان

ڈرامہ ” دوبارہ” کی کہانی زندگی میں ملنے والے دوسرے چانس کے گرد گھومتی ہے۔

ہر شخص کو زندگی دوسرا موقع ضرور دیتی ہے لیکن جب بات شریک حیات کی ہو اور شریک حیات چننے کا دوسرا موقع مل رہا ہو تو ہمارے معاشرتی رویے راہ میں حائل ہوجاتے ہیں۔ اگر شریک حیات چننے کی باری کسی خاتون کی ہوتو بات اور بھی مشکل ہوجاتی ہے۔ ڈرامہ “دوبارہ” میں اس معاشرتی رویے کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔


مومنہ درید پروڈکشنز کے زیراہتمام پیش کئے جانیوالا ڈرامہ ” دوبارہ” ثروت نذیر نے تحریر کیا ہے جبکہ ہدایات عشق تماشا، کشف اور چپکے چپکے کے شہرہ آفاق ڈائرکٹر دانش نواز نے دی ہیں۔ بلال عباس خان، حدیقہ کیانی، جاوید شیخ، سکینہ سموں، نعمان اعجاز ، اسامہ خان اور دیگر نے ڈرامہ میں مرکزی کردارادا کئے ہیں۔


ڈرامہ سیریل میں شوہر کی موت کے بعد خاتون کی دوبارہ شادی اور کم عمر شخص سے محبت کو دکھایا گیا ہے۔ ڈرامہ کی کہانی ہمارے معاشرے میں بسنے والی بیواؤں کیلئے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوا ہے جن کے لیے خوشی کو شجرِ ممنوعہ قرار دیا جاتا ہے۔ کہانی مہرو نامی لڑکی کے گرد گھومتی ہے جس کی شادی ایک بڑی عمر کے شخص کے ساتھ زبردستی کر دی جاتی ہے۔ تقدیر کا کرنا ایسا ہے کہ وہ شخص مرجاتا ہے اور مہرو کم عمری میں ہی بیوہ بن جاتی ہے۔ قانون کسی بھی بیوہ کے دوبارہ شادی کرنے کے خلاف نہیں ہے۔

ڈرامے میں بجا طور پر بتایا گیا کہ ایک بیوہ کیلئے عدت کے بعد دوبارہ شادی کرنا جائز ہے۔ اگر کوئی بھی بیوہ دوبارہ شادی کی خواہش کرے تو ہمارا معاشرہ اسے ممنوع سمجھتا ہے ۔


مہرو جب زندگی میں آگے بڑھنے لگتی ہے تو مسلسل اس کا ماضی یاد دلایا جاتا ہے۔ ابتدا میں اس کی بھابھی (سکینہ سموں) اور پھر سہیلیاں اور بیٹا عفان اسے پریشان کرتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ بیوہ خواتین کو شادی کرنے پر جرم کا احساس دلانے لگتا ہے اور اگر وہ شادی کرکے نئی زندگی بسر کرنے لگیں تو معاشرے میں بسنے والے دقیانوسیت پسند افراد کو بڑی تکلیف ہوتی ہے اور وہ چیخنے چلانے لگتے ہیں۔


مہرو کے بالوں کو خوبصورتی کے ساتھ فلمایا گیا ہے جب وہ پہلے سین میں اپنے بال کھولتی ہے تو ایک آزادی کا احساس ہوتا ہے۔ اس کا بچپن اس سے چھین لیا گیا تھا، اور وہ ایسی زندگی گزارنے پر مجبور تھی جو وہ نہیں چاہتی تھی۔
لیکن معاشرہ ُاس کی پُکار اور آواز کو دبانا چاہتا تھا۔ المختصر ِاس ڈرامہ سیریل کے بقول سب کو معاشرے بالخصوصی خواتین کو اپنی آواز ُاٹھانے کا پورا حق حاصل ہے۔

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

آخر کب تک، Akhir kab tak

کاش ایسا ہو جائے

تحریر شہباز ملک ایک طرف سیلاب سے پاکستان کے متعدد شہرڈوبے ہوئے ہیں اورسیلاب متاثرین ...

%d bloggers like this: