ذولفقار علی بھٹو ، نواز شریف اور عمران خان تحریر:خلیل احمد تھند

عمران خان کے دماغ کی سوئی ایک ہی جگہ اٹکی ہوئی ہے وہ آج بھی اسی سہارے کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں جس نے انہیں پارلیمنٹ کی ایک سیٹ سے اٹھا کر 155 تک اور پھر وزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچایا تھا وہ اپنے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں اس کااعتماد برقرار نا رکھ سکے تھےماضی میں ذولفقار علی بھٹو نے ایوب خان کے ذریعے قومی سیاست میں پہلے اپنا مقام پیدا کیا پھر وقت کے آمر کی کشتی ڈوبتے دیکھ کر اس سے چھلانگ لگادی محترمہ فاطمہ جناح کی وفات کی وجہ سے جمہوری قوتوں کے بکھر جانے کے بعد پیدا ہونے والے جمہوری خلا کو پر کرتے ہوئے وہ جمہوری لیڈر بن کر ابھرے اور چھا گئے انہوں نے اپنے منہ بولے ڈیڈی کے ادارے کی طرف پھر کبھی پلٹ کر نہیں دیکھا حتی کہ فوجی آمریت کے ہاتھوں اپنی جان تک قربان کردی میاں نواز شریف نے تحریک استقلال میں ناکام ہونے کے بعد جنرل ضیاء الحق کی مجلسوں کی پچھلی نشستوں سے ہوتے ہوئے ان کے دست شفقت تک رسائی حاصل کر لی پہلے وزیر پھر وزیراعلی پنجاب بن گئے جنرل ضیاء کی ناگہانی وفات کے بعد ان کے وارث بن کر کھڑے ہوئے اوراینٹی بھٹو لیڈر بن کر وزارت عظمیٰ کے منصب پر بیٹھ گئے نوازشریف جلد ہی ملکی سیاست پر چھا گئے وہ اپنے دامن پر لگے آمریت کا داغ مٹانے کے لئے جمہوری موقف لے کر آگے بڑھتے گئے ان کا دور سیاست فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کشمکش سے بھرا ہوا ہے لیکن انہوں نے اپنا جمہوری امیج قائم رکھنے کی بھرپور کوشش کیعمران خان نے عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے کے بعد یکے بعد دیگرے غلط سیاسی فیصلے کئے وہ غیر آئینی مزاحمت کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے اگر کھلے دل سے تحریک عدم اعتماد قبول کرتے اور اس کی کامیابی کی صورت میں اپوزیشن بینچوں پر بیٹھ کر جمہوری کردار ادا کرنے کا فیصلہ کرتے تو ان کی شخصیت زیادہ نکھر کر سامنے آتی لہذا ایک شفاف جمہوریت پسند شخصیت کا تاثر رکھنے والے لیڈر کا مقابلہ ان کے حریفوں کے لئے انتہائی مشکل ہو جاتا عمران خان نے اسلام آباد دھرنا جو سب سے آخری آپشن ہونا چاہیے تھا اسے جلد بازی میں اختیار کرکے اپنی سیاسی قوت زمین بوس کردی انہوں نے عوامی پریشر برقرار رکھنے کی بجائے اسے قبل از وقت ایکسپوز کردیاہماری سمجھ کے مطابق عمران خان کو فوجی اسٹیبلشمنٹ نے جتنا سپورٹ کرنا تھا کردیا آئندہ کے لئے انہیں خود پرواز کرنا چاہئے تھا لیکن بھٹو اور نواز شریف کے برعکس ان کی بصیرت یہ ہے کہ وہ اقتدار سے محرومی کے بعد مسلسل فوجی اسٹیبلشمنٹ پر فوکس کئے ہوئے ہیں وہ اپنے نئے بیانئے کو حاصل ہونے والی زبردست عوامی پذیرائی کو جمہوریت کی شاہراہ پر گامزن کرنے کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کو انڈر پریشر کر کے دوبارہ اسی کے ذریعے اقتدار میں آنا چاہتے ہیں عمران خان اگرچہ اس وقت سب سے زیادہ پاپولر لیڈر ہیں لیکن ہمارے نزدیک انہوں نے بڑا جمہوری لیڈر بننے کا بہترین موقع ضائع کر دیا ہے

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

قصور پولیس کے مدرسہ میں خواتین پر تشدد کی مذمت کرتے ہیں، چیف اکرام الدین

ایسے بے ضمیر پولیس افسران کو سرعام سزا دی جائے۔سربراہ جزبہ اتحاد یونین آف جرنلسٹ ...

%d bloggers like this: